سنن نسائی حدیث ۷۳۴ - نماز کے بعد بیٹھنے پر فرشتوں کی دعا
نماز کے بعد بیٹھنے کی فضیلت اور فرشتوں کی دعا
سنن نسائی : ۷۳۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۳۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، اور وضو نہ توڑا ہو، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اور اے اللہ! تو اس پر رحم فرما“۔
سنن نسائی حدیث ۷۳۴ کا خلاصہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں نماز کے بعد مسجد یا نماز کی جگہ بیٹھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ فرشتے تمہارے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں جب تک آدمی اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے، بشرطیکہ اس کا وضو نہ ٹوٹے۔ فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے فوراً بعد جلدی اٹھ جانا ضروری نہیں، بلکہ اگر آدمی باوضو اپنی جگہ بیٹھا رہے تو یہ وقت خیر والا بن سکتا ہے۔ اس میں ذکر، دعا یا خاموشی کے ساتھ بیٹھنا شامل ہو سکتا ہے، مگر حدیث کی اصل شرط یہی ہے کہ وہ اپنی جگہ رہے اور وضو نہ توڑے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے بعد اپنی جگہ باوضو بیٹھنا باعث خیر ہے۔
- فرشتے ایسے شخص کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
- وضو قائم رکھنا اس فضیلت سے متعلق شرط کے طور پر بیان ہوا ہے۔
