سنن نسائی حدیث ۷۳۵ - نماز کے انتظار کی فضیلت
نماز کے انتظار کی فضیلت مسجد میں
سنن نسائی : ۷۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۳۵
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ ، قال : سَمِعْتُ سَهْلًا السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ " .
سہل ساعدی روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز ہی میں رہتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۷۳۵ کا خلاصہ
سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز ہی میں رہتا ہے۔ یہ حدیث انتظار کو بھی عبادت سے جوڑتی ہے۔ انسان مسجد میں بیٹھا ہے، ابھی نماز شروع نہیں ہوئی، مگر وہ نماز کے انتظار میں ہے؛ اس حالت کو حدیث نے نماز میں رہنے جیسا بتایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں نماز کے وقت سے پہلے آنا، سکون سے بیٹھنا اور جماعت کا انتظار کرنا بہت اچھا عمل ہے۔ یہاں شرط یہی سمجھ آتی ہے کہ انتظار نماز کے لیے ہو، نہ کہ بے مقصد باتوں یا شور کے لیے۔ مسجد میں انتظار کا وقت دعا، ذکر، قرآن یا خاموشی کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا عبادت والا وقت ہے۔
- جماعت سے پہلے آنا اچھی عادت ہے۔
- مسجد میں انتظار کے دوران سکون اور ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔
