سنن نسائی حدیث ۸۱۰ - اقامت کے بعد انتظار
اقامت کے بعد صفیں اور امام کا انتظار
سنن نسائی : ۸۱۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۱۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ : " لَنَا مَكَانَكُمْ " فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى .
ابوہریرہ روایت:
نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہیں ہماری طرف پلٹے، اور فرمایا: ”تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو“، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے، آپ غسل کئے ہوئے تھے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، تو آپ نے تکبیر (تحریمہ) کہی، اور صلاۃ پڑھائی۔
سنن نسائی حدیث ۸۱۰ کا خلاصہ
یہ حدیث اقامت کے بعد صفوں کی تیاری اور امام کے انتظار کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو لوگ کھڑے ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے صفیں درست کر لی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آئے، مگر تکبیر کہنے سے پہلے واپس مڑے اور فرمایا کہ اپنی جگہوں پر رہو۔ صحابہ کرام کھڑے ہو کر انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے واپس تشریف لائے، سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ پھر آپ نے تکبیر کہی اور نماز پڑھائی۔ حدیث میں صف بندی، امام کے انتظار، اور نماز شروع کرنے سے پہلے حالت درست ہونے کا بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقامت کے بعد صفیں درست کر لی جاتی تھیں۔
- امام کے کہنے پر مقتدی اپنی جگہ پر انتظار کر سکتے ہیں۔
- تکبیر تحریمہ سے پہلے نماز شروع نہیں ہوتی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کے بعد آ کر نماز پڑھائی۔
