سنن نسائی حدیث ۸۱۴ - برابر ہو جاؤ
برابر ہو جاؤ: صف درست کرنے کی تاکید
سنن نسائی : ۸۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۱۴
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، قال : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اسْتَوُوا اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ " .
انس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں“۔
سنن نسائی حدیث ۸۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مختصر مگر بہت مؤثر فرمان نقل ہوا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ، برابر ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح سامنے سے دیکھتا ہوں۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز میں صفوں کو برابر کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بار بار دہرایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی صف بندی معمولی بات نہیں سمجھی گئی۔ مقتدی کو چاہیے کہ صف میں کھڑے ہوتے وقت اپنی جگہ، کندھے، اور صف کے برابر ہونے کا خیال رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صف برابر کرنے کی تاکید بار بار فرمائی گئی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقتدیوں کی حالت پر توجہ رکھتے تھے۔
- نماز شروع ہونے سے پہلے صف درست کرنا چاہیے۔
- حدیث میں پیچھے سے دیکھنے کا خاص ذکر آیا ہے۔
