سنن نسائی حدیث ۸۱۳ - صفیں برابر رکھو
صفیں برابر رکھو اور اختلاف نہ کرو
سنن نسائی : ۸۱۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۱۳
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَيَقُولُ : " اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَلْيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " .
ابومسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: ”صفیں سیدھی رکھو، اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں، پھر (اس وصف میں) وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں“۔
سنن نسائی حدیث ۸۱۳ کا خلاصہ
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نماز کی صفوں کے ادب کو بہت صاف بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے مونڈھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے کہ برابر ہو جاؤ، اختلاف نہ کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: ایک صفوں کی درستگی، دوسری امام کے قریب مناسب لوگوں کا کھڑا ہونا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں نظم، سمجھ داری اور صف بندی سب کا خیال رکھا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں کندھے برابر رکھ کر صف درست کی جائے۔
- صفوں کا اختلاف دلوں کے اختلاف سے جوڑا گیا ہے۔
- باشعور لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم صف بندی کی عملی نگرانی فرماتے تھے۔
