سنن نسائی حدیث ۸۱۱ - تیر کی طرح سیدھی صفیں

تیر کی طرح سیدھی صفیں بنانے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۱۱

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ فَأَبْصَرَ رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .

نعمان بن بشیر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا“۔

سنن نسائی حدیث ۸۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نماز کی صفوں کو سیدھا رکھنے کی بہت واضح تاکید ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں اس طرح درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کیے جاتے ہیں۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا۔ اس حدیث میں صف کی معمولی بے ترتیبی کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ نماز میں صف بندی صرف کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ ایک ساتھ، برابر اور نظم کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں صفیں بہت سیدھی ہونی چاہئیں۔
  • صف سے سینہ باہر نکلنا بھی درستگی کے خلاف ہے۔
  • صفوں کی بے ترتیبی پر حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود صفوں کو درست فرماتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں