سنن نسائی حدیث ۸۰۸ - صفیں سیدھی رکھو
صفیں سیدھی رکھو، دل بھی جڑیں گے
سنن نسائی : ۸۰۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۰۸
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ : " لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : أَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ .
ابومسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (صف بندی کے وقت) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے، اور فرماتے: ”تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو (اس وصف میں) ان سے قریب ہو“، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے۔
سنن نسائی حدیث ۸۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز کی صفوں کو سیدھا رکھنے کی تاکید کرتی ہے۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں صف بندی کے وقت صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے کہ آگے پیچھے نہ کھڑے ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے ہوش مند اور سمجھ دار لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں۔ اس حدیث میں صفیں سیدھی کرنے کو صرف ظاہری ترتیب نہیں بتایا گیا، بلکہ دلوں کے اختلاف سے بھی جوڑا گیا ہے۔ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے آخر میں اپنے زمانے کے اختلافات کا ذکر بھی اسی بات سے کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں صفیں آگے پیچھے نہیں ہونی چاہئیں۔
- ظاہری بے ترتیبی دلوں کے اختلاف کا سبب بن سکتی ہے۔
- باشعور لوگ امام کے قریب رہیں تاکہ نماز کی ترتیب بہتر رہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود صفوں کی درستگی کا خیال فرماتے تھے۔
