سنن نسائی حدیث ۸۰۹ - نبی کے قریب رہنے کا عہد

امام کے قریب رہنے کی حدیث اور تنبیہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۰۹

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، قال : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : أَخْبَرَنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بنِ عُبَادٍ ، قال : بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ : " يَا فَتَى لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ " ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ : " هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ " وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا " قُلْتُ : يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا يَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ قَالَ : الْأُمَرَاءُ .

قیس بن عباد روایت:

میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ (سلام پھیر کر) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا: اے نوجوان! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق (عہد) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا: رب کعبہ کی قسم! تباہ ہو گئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا: لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابو یعقوب! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: امراء (حکام) مراد ہیں۔

سنن نسائی حدیث ۸۰۹ کا خلاصہ

یہ روایت صف کے اگلے حصے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے کی بات بیان کرتی ہے۔ قیس بن عباد کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں اگلی صف میں تھے، تو ایک شخص نے انہیں پیچھے سے زور سے کھینچا اور ان کی جگہ خود کھڑا ہو گیا۔ اس سے انہیں نماز میں سخت خلل محسوس ہوا۔ نماز کے بعد معلوم ہوا کہ وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے نوجوان، اللہ تمہیں رنج سے بچائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا عہد ہے کہ ہم آپ کے قریب رہیں۔ پھر انہوں نے قبلہ رخ ہو کر اہل عقد یعنی حکام کے بارے میں سخت بات کہی، اور وضاحت کی کہ انہیں زیادہ غم ان لوگوں پر ہے جو ان کے سبب بھٹک گئے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہنے کو بعض صحابہ خاص عہد سمجھتے تھے۔
  • نماز میں کسی کو زور سے ہٹانا اس کی توجہ متاثر کر سکتا ہے۔
  • حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نوجوان کو تسلی دی۔
  • روایت میں حکام اور ان کے اثر سے بھٹکنے والوں پر تنبیہ آئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں