سنن نسائی حدیث ۹۹۷ - قل هو اللہ احد ثلث القرآن

قل هو اللہ احد: تہائی قرآن کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۹۷

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ امْرَأَةٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا .

ابوایوب خالد بن زید انصاری روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔

سنن نسائی حدیث ۹۹۷ کا خلاصہ

ابو ایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو الله أحد» تہائی قرآن ہے۔ امام نسائی نے اس روایت کے آخر میں سند کے بارے میں بھی ایک بات ذکر کی کہ وہ کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتے۔ اصل پیغام سورۃ اخلاص کی فضیلت ہے۔ یہ سورت مختصر ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بہت صاف بیان کرتی ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کر آدمی کو سورۃ اخلاص کی تلاوت میں رغبت ہونی چاہیے، مگر اس کے ساتھ پورے قرآن کی تلاوت اور سمجھنے کی کوشش بھی اپنی جگہ باقی رہتی ہے۔ اس روایت سے قرآن کی ایک چھوٹی سورت کے بڑے مقام کا علم ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورۃ اخلاص کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی قرآن فرمایا۔
  • چھوٹی سورت بھی بہت عظیم معنی رکھ سکتی ہے۔
  • حدیث میں سند کے خاص ذکر سے روایت کی تفصیل بھی معلوم ہوتی ہے۔
  • سورۃ اخلاص کی تلاوت محبت اور توحید کے یقین کے ساتھ کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں