سنن نسائی حدیث ۹۹۸ - عشاء میں آسان قراءت

عشاء کی نماز میں امام کی قراءت کتنی ہو؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۹۸

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : قَامَ مُعَاذٌ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَطَوَّلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَيْنَ كُنْتَ ، عَنْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و الضُّحَى و إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ " .

جابر روایت:

معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی، تو انہوں نے قرأت لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى‏»، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» کیوں نہیں پڑھتے؟“۔

سنن نسائی حدیث ۹۹۸ کا خلاصہ

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور قراءت لمبی کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ پھر آپ نے «سبح اسم ربك الأعلى»، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» جیسی سورتوں کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اس حدیث سے امام کے لیے ایک بہت عملی سبق ملتا ہے۔ عشاء کا وقت دن بھر کے کام کے بعد آتا ہے، اس لیے لوگوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ امام کو نماز مکمل بھی پڑھانی ہے اور مقتدیوں کے حال کا خیال بھی رکھنا ہے۔ لمبی قراءت کا اپنا مقام ہو سکتا ہے، مگر جماعت میں آسانی کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عشاء میں امام کو لوگوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • غیر ضروری لمبی قراءت مقتدیوں کے لیے مشکل بن سکتی ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان سورتوں کی رہنمائی فرمائی۔
  • امامت میں نرمی اور توازن ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں