زنا کے گواہ
کل احادیث 4
زنا کے گواہ اور اسلامی قانون شہادت کے متعلق اہم احادیث
ان مبارک احادیث میں زنا کے گواہ اور اس سے متعلقہ اسلامی قوانین کی وضاحت کی گئی ہے۔ سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا وہ اسے قتل کر سکتا ہے یا اسے چار گواہ لانے تک مہلت دینی چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتی طور پر سزا دینے سے سختی سے منع فرمایا اور واضح کیا کہ اسلامی قانون کے تحت چار گواہوں کی موجودگی لازمی ہے۔ اگرچہ انسانی غیرت اس بات کو گوارا نہیں کرتی، لیکن اسلام جذباتی فیصلوں کے بجائے قانون کی بالادستی کا حکم دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بہت غیرت مند ہیں، میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت رکھتا ہے، پھر بھی اللہ نے گواہوں کی شرط رکھی تاکہ معاشرے میں لاقانونیت نہ پھیلے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : غَيْرَ مُصْفِحٍ ، وَلَمْ يَقُلْ عَنْهُ .
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس روایت میں «غَيْرَ مُصْفِحٍ» کے الفاظ ہیں اور «عَنْهُ» نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، قَالَ سَعْدٌ : بَلَى ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ (انصار کے رئیس) نے کہا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ مرد کو پائے(زنا کرتے ہوئے) کیا اس کو مار ڈالے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں مار ڈالے قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ عزت دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے) ”سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں۔“ (یعنی تعجب ہے ان سے کہ ایسی بات کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے طبیعت اور غصہ کو دخل نہ دینا چاہیے)۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أأمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو کیا اس کو مہلت دوں چار گواہ لانے تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : كَلَّا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ، إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اس کو ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں۔ میں تو قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا جلدی اس کا علاج تلوار سے کر دوں اس سے پہلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں وہ بڑے غیرت دار ہیں اور میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اللہ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔“
