دجال
کل احادیث 88
فتنہ دجال کی حقیقت اور نشانیاں احادیث کی روشنی میں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو فتنہ دجال کے بارے میں شدید ترین انتباہ فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ کائنات کا ہر نبی اپنی امت کو اس جھوٹے اور کانے دجال سے ڈراتا رہا ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق دجال کی سب سے بڑی جسمانی نشانی یہ ہوگی کہ وہ کانا ہوگا، جبکہ ہمارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی پیشانی پر واضح طور پر 'کافر' یا 'ک ف ر' لکھا ہوگا، جسے دنیا کا ہر مسلمان آسانی سے پڑھ سکے گا۔ دجال لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے ساتھ آگ اور پانی کا فریب لائے گا؛ جو چیز لوگوں کو آگ نظر آئے گی وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہوگی اور جو پانی دکھائی دے گا وہ حقیقت میں آگ ہوگی۔ لہذا، اگر کوئی مسلمان اس دور کو پائے، تو اسے چاہیے کہ وہ دجال کی دکھائی ہوئی آگ میں کود جائے کیونکہ وہی اصل میں پینے کا صاف پانی ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : " مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مَا سَأَلْتُهُ ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي : مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ ، قُلْتُ : لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ ، قَالَ : هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .
´ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا، کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَقَالَ : لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو بچوں پر سے گزرے۔ ان میں ابن صیاد تھا۔ سب لڑکے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر) بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان تھا گو یقین نہ تھا کہ یہ دجال ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے، تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔“ وہ بولا: نہیں۔ بلکہ تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑئیے میں اس کو قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہ ہے جو تو خیال کرتا ہے (یعنی دجال ہے) تو تو اس کو نہ مار سکے گا۔“ (اور جو دجال نہیں ہے تو اس کے مارنے سے کیا فائدہ)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ ، مَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، وَمَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ ، وَصَادِقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ " ،
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ملے مدینہ کی بعض راہوں میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے اس بات کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے کہا: تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، بھلا تجھ کو کیا دکھائی دیتا ہے؟“ وہ بولا: میں ایک تخت دیکھتا ہوں پانی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ابلیس کا تخت ہے سمندر پر اور کیا دیکھتا ہے؟“ وہ بولا: دو سچے میرے پاس آتے ہیں اور ایک جھوٹا یا دو جھوٹے اور ایک سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو اس کو، اس کو شک ہے اپنے باب میں۔“ (کہ وہ سچا ہے یا نہیں)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ : لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ، قَالَ : لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں بنی مغالہ کی بجائے بنی معاویہ ہے اور یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش اس کی ماں اس کو اپنے کام میں چھوڑ دیتی۔“
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ ، غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ ، فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ ، قَالَ : " وَمَا سُؤَالُكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ اس کے ساتھ پہاڑ ہوں گے روٹیوں کے اور گوشت کے پانی کی نہر ہو گی۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَيَأْتِي سِبْخَةَ الْجُرُفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ ، وَقَالَ : فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ دجال اپنا خیمہ جرف کی شور زمین میں لگائے گا اور ہر منافق مرد اور عورت اس کے پاس چلے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ ، وَلَا الدَّجَّالُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے نہ دجال۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں نہ یہاں طاعون آ سکتی ہے اور نہ دجال آ سکتا ہے۔“
