حدیث ۷۳۴۴
صحیح مسلم : ۷۳۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۴۴
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَقَالَ : لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو بچوں پر سے گزرے۔ ان میں ابن صیاد تھا۔ سب لڑکے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر) بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان تھا گو یقین نہ تھا کہ یہ دجال ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے، تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔“ وہ بولا: نہیں۔ بلکہ تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑئیے میں اس کو قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہ ہے جو تو خیال کرتا ہے (یعنی دجال ہے) تو تو اس کو نہ مار سکے گا۔“ (اور جو دجال نہیں ہے تو اس کے مارنے سے کیا فائدہ)۔
