حدیث ۷۳۴۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۴۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ ، مَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، وَمَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ ، وَصَادِقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ " ،

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ملے مدینہ کی بعض راہوں میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے اس بات کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے کہا: تم گواہی دیتے ہو اس بات کی کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، بھلا تجھ کو کیا دکھائی دیتا ہے؟“ وہ بولا: میں ایک تخت دیکھتا ہوں پانی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو ابلیس کا تخت ہے سمندر پر اور کیا دیکھتا ہے؟“ وہ بولا: دو سچے میرے پاس آتے ہیں اور ایک جھوٹا یا دو جھوٹے اور ایک سچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو اس کو، اس کو شک ہے اپنے باب میں۔“ (کہ وہ سچا ہے یا نہیں)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں