شکار کے احکام

کل احادیث 93

شکار کے اسلامی احکام اور نبوی تعلیمات و اصول

اسلام میں شکار کے حوالے سے واضح اور آسان اصول مقرر کیے گئے ہیں جن کا تذکرہ احادیث مبارکہ میں تفصیل سے ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی کہ جب کوئی شخص بسم اللہ پڑھ کر تیر چلائے اور اس کی نوک یا دھار شکار کو زخمی کر کے مار ڈالے تو وہ حلال ہے، لیکن اگر لکڑی یا تیر کا چوڑا حصہ (عرض) لگنے سے جانور مر جائے تو وہ مردار شمار ہوگا اور اسے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح سدھائے ہوئے کتے کو جب اللہ کا نام لے کر چھوڑا جائے اور وہ شکار کو صرف اپنے مالک کے لیے روک کر رکھے، تو وہ حلال ہے؛ البتہ اگر کتا خود اس میں سے کچھ کھا لے یا اس کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شریک ہو جائے تو وہ شکار کھانا جائز نہیں۔ اس کے علاوہ بغیر سدھائے ہوئے کتے کے شکار کو صرف اسی صورت میں کھایا جا سکتا ہے جب وہ زندہ مل جائے اور اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے۔ شریعت نے بلا مقصد محض کنکری پھینک کر جانوروں کو نقصان پہنچانے سے بھی سختی سے منع کیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ ، فَقَالَ : " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ ، فَإِنْ أَكَلَ ، فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ " .

‏‏‏‏ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ بن حاتم سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم لوگ شکار کیا کرتے ہیں ان کتوں سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ”جب تو اپنے شکاری کتوں کو چھوڑے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر چھوڑے تو کھا ان جانوروں میں سے جن کو وہ پکڑ لیں اگرچہ وہ مار ڈالیں مگر جس صورت میں کتا بھی اس جانور میں سے کھا لے تو اس کو مت کھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہیں کتے نے اس کو اپنے لیے نہ پکڑا ہو اسی طرح اگر اس کتے کے ساتھ اور غیر کتے شریک ہو جائیں تب بھی مت کھا۔“

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ كِلَاهُمَا ، عَنْ حَيْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ .

‏‏‏‏ اس سند کے ساتھ یہ حدیث ابنِ مبارک کی مذکورہ حدیث کی طرح منقول ہے سوائے اس کے کہ اس روایت میں کمان کے ساتھ شکار کرنے کا ذکر نہیں ہے۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ ، قَالَ : فَنَهَاهُ ، وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَذْفِ ، وَقَالَ : إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا ، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ " ، قَالَ : فَعَادَ ، فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ تَخْذِفُ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی رشتہ دار نے کنکر پھینکا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا: ”اس طریقے سے نہ شکار ہوتا ہے اور نہ دشمن مرتا ہے لیکن یہ طریقہ دانت توڑ دیتا ہے اور آنکھ پھوڑ دیتا ہے۔“ اس نے پھر اسی طرح کیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے اور تو پھر کنکر پھینکتا ہے میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا۔

وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ سیدنا ایوب رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهَا حَتَّى لَغِبُوا فَسَعَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى أَخَذْتُهَا فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَرِكَيْهَا أَوْ فَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ " .

انس بن مالک روایت:

مرالظہران (مکہ کے قریب ایک مقام) میں ہم نے ایک خرگوش کو ابھارا لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر نہ پایا پھر میں اس کے پیچھے لگا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا کولھا اور دونوں رانیں بھیجیں تو آپ نے انہیں قبول فرما لیا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِهِمْ ، وَطَائِرِهِمْ " ، يَعْنِي الْمَجُوسَ .

جابر بن عبداللہ روایت:

ہمیں ان کے یعنی مجوسیوں کے کتے، یا ان کے پرندوں کے شکار (کھانے) سے منع کر دیا گیا ہے۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْحَجَّاجِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ , وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ : الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ .

جابر بن عبداللہ روایت:

ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ صَادَ أَرْنَبًا أَوِ اثْنَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِمَرْوَةٍ , فَعَلَّقَهُمَا حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ , فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا " , قَالَ : وَفِي الْبَاب , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ , وَرَافِعٍ , وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُذَكِّيَ بِمَرْوَةٍ , وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا , وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُهُمْ أَكْلَ الْأَرْنَبِ , وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ الشَّعْبِيِّ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ , فَرَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ , وَرَوَى عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَوْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ صَفْوَانَ أَصَحُّ , وَرَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , نَحْوَ حَدِيثِ قَتَادَةَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , وَيُحْتَمَلُ أَنَّ رِوَايَةَ الشَّعْبِيِّ عَنْهُمَا , قَالَ مُحَمَّدٌ : حَدِيثُ الشَّعْبِيِّ , عَنْ جَابِرٍ , غَيْرُ مَحْفُوظٍ .

جابر بن عبداللہ روایت:

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ان کی قوم کے ایک آدمی نے ایک یا دو خرگوش کا شکار کان اور ان کو پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کو لٹکائے رکھا یہاں تک کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَال : حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِيهَا ؟ ، قَالَ : " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كِلَابُكَ فَكُلْ " ، قُلْتُ : وَإِنْ قَتَلْنَ ؟ ، قَالَ : " وَإِنْ قَتَلْنَ " ، قَالَ : أَفْتِنِي فِي قَوْسِي ؟ ، قَالَ : " مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَكُلْ " ، قَالَ : وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيَّ ؟ ، قَالَ : " وَإِنْ تَغَيَّبَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَهْمٍ غَيْرَ سَهْمِكَ ، أَوْ تَجِدْهُ قَدْ صَلَّ يَعْنِي قَدْ أَنْتَنَ " . قَالَ ابْنُ سَوَاءٍ : وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَالِكٍ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عبداللہ بن عمرو روایت:

ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ شکاری کتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے تمہارے کتے جو پکڑ کر لائیں اسے کھاؤ“۔ میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ اسے قتل کر ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ قتل کر ڈالیں“، اس نے کہا: (میں اپنے تیر کمان سے فائدہ اٹھاتا ہوں لہٰذا) مجھے تیر کمان کے سلسلے میں بتائیے، آپ نے فرمایا: ”جو شکار تمہیں تیر سے ملے تو اسے کھاؤ“، اس نے کہا: اگر وہ (شکار تیر کھا کر) غائب ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ غائب ہو جائے، جب تک کہ تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کسی چیز کا نشان نہ پاؤ یا اس میں بدبو نہ پیدا ہوئی ہو“۔ابن سواء کہتے ہیں: میں نے اسے ابو مالک عبیداللہ بن اخنس سے سنا ہے وہ اسے بسند عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے ہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطًا فَأَبَوْا ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا ، فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .

ابوقتادہ روایت:

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ مکہ کے راستہ میں ایک جگہ پر اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے پیچھے رہ گئے خود ابوقتادہ رضی اللہ عنہ احرام سے نہیں تھے اسی عرصہ میں انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور (اسے شکار کرنے کے ارادہ سے) اپنے گھوڑے پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے (جو محرم تھے) کوڑا مانگا لیکن انہوں نے دینے سے انکار کیا پھر اپنا نیزہ مانگا لیکن اسے بھی اٹھانے کے لیے وہ تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے وہ خود اٹھایا اور گورخر پر حملہ کیا اور اسے شکار کر لیا پھر بعض نے اس کا گوشت کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کیا۔اس کے بعد جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کا حکم پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہارے لیے مہیا کیا تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں