محفل کے آداب
کل احادیث 14
محفل کے آداب اور مجلس میں بیٹھنے کی نبوی تعلیمات
اسلامی تعلیمات میں محفل کے آداب اور مجلس میں بیٹھنے کے طریقوں کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ فراہم کردہ احادیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب بھی کسی محفل یا مجلس میں جائیں تو دوسروں کے حقوق اور ان کے آرام کا خاص خیال رکھیں۔ نبوی فرمان کے مطابق، کسی بھی شخص کو اس کی بیٹھنے کی جگہ سے زبردستی اٹھانا اور خود وہاں بیٹھ جانا سخت منع ہے۔ اس کے برعکس، محفل میں موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والے کے لیے جگہ کشادہ کریں اور فراخی کا مظاہرہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی، محفل میں شامل ہونے کے انداز پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے؛ جو شخص ذوق و شوق سے مجلس میں جگہ تلاش کر کے بیٹھتا ہے، اللہ اسے اپنی پناہ دیتا ہے، اور جو شرم و حیا کی وجہ سے پیچھے بیٹھ جاتا ہے، اللہ بھی اس سے حیا فرماتا ہے۔ لہٰذا محفل میں نظم و ضبط اور باہمی احترام برقرار رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى .
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کے ہم معنی روایت نقل کرتے ہیں۔
وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي الْحَدِيثِ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قُلْتُ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اتنا زیادہ ہے کہ میں نے کہا: یہ جمعہ کا حکم ہے۔ انہوں نے کہا: جمعہ ہو یا اور کوئی دن۔
وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
معمر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قالا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْر ٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
اعمش سے اس سند کے ساتھ روایت ہے۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ : " مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم سے کھڑا ہو (کسی حاجت کے لیے) اپنی جگہ سے جہاں وہ بیٹھا تھا پھر لوٹ کر آئے تو اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے“۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص دوسرے کو نہ اٹھائے اس کی جگہ سے پھر آپ اس جگہ نہ بیٹھے، لیکن پھیل جاؤ اور جگہ دو“۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي مَجْلِسِهِ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَر َ إِذَا قَامَ لَهُ رَجُلٌ عَنْ مَجْلِسِهِ لَمْ يَجْلِسْ فِيهِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے۔ پھر آپ اس جگہ بیٹھے، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے جب کوئی اپنی جگہ سے اٹھتا وہ اس جگہ نہ بیٹھتے (اگرچہ اس کی رضامندی سے بیٹھنا جائز ہے مگر یہ احتیاط تھی کہ شاید دل میں ناراض ہو)۔
