محفل کے آداب

کل احادیث 11

محفل کے آداب اور مجلس میں بیٹھنے کی نبوی تعلیمات

اسلامی تعلیمات میں محفل کے آداب اور مجلس میں بیٹھنے کے طریقوں کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ فراہم کردہ احادیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب بھی کسی محفل یا مجلس میں جائیں تو دوسروں کے حقوق اور ان کے آرام کا خاص خیال رکھیں۔ نبوی فرمان کے مطابق، کسی بھی شخص کو اس کی بیٹھنے کی جگہ سے زبردستی اٹھانا اور خود وہاں بیٹھ جانا سخت منع ہے۔ اس کے برعکس، محفل میں موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والے کے لیے جگہ کشادہ کریں اور فراخی کا مظاہرہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی، محفل میں شامل ہونے کے انداز پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے؛ جو شخص ذوق و شوق سے مجلس میں جگہ تلاش کر کے بیٹھتا ہے، اللہ اسے اپنی پناہ دیتا ہے، اور جو شرم و حیا کی وجہ سے پیچھے بیٹھ جاتا ہے، اللہ بھی اس سے حیا فرماتا ہے۔ لہٰذا محفل میں نظم و ضبط اور باہمی احترام برقرار رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسَ مَكَانَهُ .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے تاکہ دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھے، البتہ (آنے والے کو مجلس میں) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : " سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات کہی تھی اور میں نے وہ راز کسی کو نہیں بتایا (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " .

انس روایت:

نماز کی تکبیر کہی گئی اور ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتے رہے، پھر وہ دیر تک سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے صحابہ سونے لگے اس کے بعد آپ اٹھے اور نماز پڑھائی۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، فَقَالَ : " إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " ، قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو! صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری یہ مجالس تو بہت ضروری ہیں، ہم وہیں روزمرہ گفتگو کیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ! فرمایا (غیر محرم عورتوں کو دیکھنے سے) نظر نیچی رکھنا، راہ گیروں کو نہ ستانا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی (سرگوشی) نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ لوگوں کو رنج ہو گا البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ هَكَذَا " .

ابن عمر روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں دیکھا کہ آپ سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانیں شکم مبارک سے ملائے ہوئے ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے ہوئے بیٹھے تھے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ ، وَاهْدُوا السَّبِيلَ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .

براء بن عازب روایت:

انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ”(یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور (بھولے بھٹکے ہوئے کو) راستہ بتا دیا کرو“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةٌ ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " .

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی (سرگوشی) نہ کریں۔“

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ أَيْضًا .

جابر بن سمرہ روایت:

ہم جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو جس کو جہاں جگہ ملتی وہیں بیٹھ جاتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں