پھل پکنے سے پہلے فروخت
کل احادیث 139
درخت پر پھل پکنے سے پہلے فروخت اور مزابنہ کے احکام
اسلامی نظامِ تجارت میں شفافیت اور انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان احادیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 'مزابنہ' یعنی درخت پر لگی ہوئی کچی کھجور کو اتاری ہوئی سوکھی کھجور کے بدلے، یا بیل پر لگے ہوئے کچے انگور کو منقیٰ (خشک انگور) کے بدلے ناپ کر بیچنے سے سخت منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ہدایت فرمائی کہ جب تک پھل کا پکا ہونا اور اس کی معقولیت واضح نہ ہو جائے، اسے فروخت نہ کیا جائے۔ احادیث کے مطابق اس قسم کی خرید و فروخت میں نقصان، دھوکے اور ناانصافی کا عنصر پایا جاتا ہے، جہاں خریدار یا بیچنے والا غیر یقینی فائدے یا نقصان کی شرط پر سودا کرتا ہے، جسے شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مِنَ التَّمْرِ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ .
اوپر والی حدیث کی طرح ہے سند کا فرق ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مندرجہ بالا روایت اس سند سے بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ يَحْيَي ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ ،
اس سند سے بھی مندرجہ بالا حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث منقول ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : مَا صَلَاحُهُ ؟ قَالَ : تَذْهَبُ عَاهَتُهُ .
ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے لوگوں نے کہا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، پھل کی سلامتی سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: اس کی آفت جاتی رہے۔
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَال : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : أَنْ تُؤْخَذَ بِخَرْصِهَا ،
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُمْ قَالُوا : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی عریہ کی بیع میں اندازہ کر کے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى ، غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ ، وَابْنَ الْمُثَنَّى جَعَلَا مَكَانَ الرِّبَا : الزَّبْنَ ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : الرِّبَا .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
