اللہ کی صفات
کل احادیث 12
اللہ کی صفات اور اس کی خصوصیات پر مبنی مستند احادیث
یہ مبارک احادیث ہمیں اللہ کی صفات اور اس کی عظیم خصوصیات کے بارے میں گہرا علم فراہم کرتی ہیں۔ ان احادیث کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی ذات کائنات کی ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو یکساں طور پر سننے اور جاننے والی ہے، اور انسان کا کوئی بھی عمل یا قول اس سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ اسلامی علم کے مطابق، اللہ تعالیٰ کو اپنی تعریف اور حمد و ثنا سب سے زیادہ پسند ہے، اسی لیے اس نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے۔ مزید برآں، اللہ تعالیٰ کی ایک اہم صفت اس کی غیرت ہے، اور اسی غیرت کی وجہ سے اس نے تمام ظاہری اور باطنی بے حیائیوں اور بدکاریوں کو انسانوں کے لیے مکمل طور پر حرام قرار دیا ہے تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَنْزَلَ الْكِتَابَ وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اس میں اتنا زیادہ ہے اللہ سے زیادہ کسی کو عذر کرنا پسند نہیں ہے (یعنی اللہ کو یہ بہت پسند ہے کہ گناہ گار بندے اس کے سامنے عذر پیش کریں اپنے گناہ کی معافی چاہیں) اسی واسطے اس نے کتاب اتاری اور پیغمبروں کو بھیجا اور توبہ کی تعلیم کی۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
علاء سے اس سند کے ساتھ مروی ہے۔ باب: نیکیوں سے برائیاں مٹنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " اجْتَمَعَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلٌ ، فِقْهُ قُلُوبِهِمْ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : أَتُرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ ؟ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَسْمَعُ إِنْ جَهَرْنَا وَلَا يَسْمَعُ إِنْ أَخْفَيْنَا ، وَقَالَ الْآخَرُ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَهُوَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ وَلا جُلُودُكُمْ سورة فصلت آية 22 " الْآيَةَ ،
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیت اللہ کے پاس تین آدمی اکھٹے ہوئے اور ان میں سے دو قریش کے تھے اور ایک ثقیف کا یا دو ثقیف کے تھے اور ایک قریش کا تھا، ان کے دلوں میں سمجھ کم تھی اور ان کے پیٹوں میں بہت چربی تھی (اس سے معلوم ہوا کہ مٹاپے کے ساتھ دانائی کم ہوتی ہے) ایک شخص ان میں سے بولا: کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں اور دوسرا یہ بولا: اگر ہم پکاریں تو سنے گا اور چپکے سے بولیں تو نہیں سنے گا اور تیسرا بولا: اگر وہ سنتا ہے جب ہم پکار کر بولتے ہیں تو آہستہ بولیں گے جب بھی سنے گا تب اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری «وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّـهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ» (فصلت: ٢٢) یعنی”تم اس لیے نہیں چھپاتے تھے کہ تم پر گواہی دیں گے کان اور آنکھ اور کھالیں تمہاری (لیکن تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ نہیں جانتا بہت کام جو تم کرتے ہو)۔“
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ کو اس میں غیرت آتی ہے کہ مومن وہ کام کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ ، حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ أَسْمَاءَ .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی روایت ہے جیسے اوپر گزری اس میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کو تعریف کرنا اتنا پسند نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے (کیونکہ وہ لائق ہے تعریف کے اور سب میں عیب موجود ہیں تو تعریف کے لائق نہیں ہیں) اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی خود تعریف کی اور کوئی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے بدکاریوں کو حرام کیا چھپی ہوں یا کھلی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : قُلْتُ لَهُ : آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ : " لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے اللہ نے ظاہری اور باطنی ہر قسم کے فواحش کو حرام کیا ہے اور نہ ہی کوئی اللہ سے بڑھ کر تعریف کو پسند کرنے والا ہے۔“
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . ح وقَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِنَحْوِهِ .
عبداللہ روایت:
عبداللہ سے اسی طرح مروی ہے۔
(حديث مرفوع) قَالَ يَحْيَى ، وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ شَيْءٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ،
اسماء بنت ابی بکر روایت:
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شے اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت مند نہیں۔“ (بخاری کی روایت میں شخص ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شے اور شخص کا اطلاق پروردگار پر درست ہے)۔
