انسان کی تخلیق

کل احادیث 14

انسان کی تخلیق اور رحم مادر میں نشوونما کے مراحل

احادیث مبارکہ کے مطابق انسان کی تخلیق اور اس کی حیاتیاتی ابتدا کے حوالے سے واضح تعلیمات ملتی ہیں۔ پہلی حدیث کے مطابق رحمِ مادر میں اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرماتا ہے جو نطفہ، علقہ اور مضغہ کے تدریجی مراحل کی نگرانی کرتا ہے۔ جب خلقت پوری کرنے کا وقت آتا ہے تو ماں کے پیٹ ہی میں بچے کے جنس (مذکر یا مؤنث)، رزق، عمر اور نیک یا بدبخت ہونے کا فیصلہ لکھ دیا جاتا ہے۔ دیگر احادیث میں انسانی تولید اور وراثت کی علامات کا ذکر ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے پانی (نطفہ) کے اخراج کے بعد جس کا پانی غالب یا پہلے آ جائے، بچہ اسی کے مشابہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ احتلام کی صورت میں عورت پر بھی غسل فرض ہونے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ ، وَقَالَ : أَذْكَرَ ، وَآنَثَ ، وَلَمْ يَقُلْ : أَذْكَرَا ، وَآنَثَا .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالُوا : السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْآنَ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ پاک نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا پھر فرمایا کہ جا اور ان ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام (گئے اور) کہا، السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہو گا، آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔“

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً لَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَتْفِلُونَ ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ الْأَنْجُوجُ عُودُ الطِّيبِ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورتیں ایسی روشن ہوں گی جیسے چودھویں کا چاند روشن ہوتا ہے، پھر جو لوگ اس کے بعد داخل ہوں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے۔ نہ تو ان لوگوں کو پیشاب کی ضرورت ہو گی نہ پاخانہ کی، نہ وہ تھوکیں گے نہ ناک سے آلائش نکالیں گے۔ ان کے کنگھے سونے کے ہوں گے اور ان کا پسینہ مشک کی طرح ہو گا۔ ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار عود جلتا ہو گا، یہ نہایت پاکیزہ خوشبودار عود ہو گا۔ ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ سب کی صورتیں ایک ہوں گی۔ یعنی اپنے والد آدم علیہ السلام کے قد و قامت پر ساٹھ ساٹھ ہاتھ اونچے ہوں گے۔“

وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَزَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّ بَنِي أَبِي طَلْحَةَ ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لَهَا : أُفٍّ لَكِ ، أَتَرَى الْمَرْأَةُ ذَلِكِ ؟ .

عائشہ روایت:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جس نے کہا: افسوس ہے تجھ پر۔ کیا عورت یہ سب کچھ دیکھتی ہے؟

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ سَهْلٌ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتِ الْمَاءَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : تَرِبَتْ يَدَاكِ وَأُلَّتْ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعِيهَا ، وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكِ ؟ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ ، أَشْبَهَ الْوَلَدُ أَخْوَالَهُ ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا ، أَشْبَهَ أَعْمَامَهُ " .

عائشہ روایت:

ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت غسل کرے جب اس کو احتلام ہو اور پانی دیکھے؟ (یعنی منی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں غسل کرے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے اور وہ کونچے جائیں ہتھیار سے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دے اس کو آخر بچہ جو مشابہ ہوتا ہے ماں باپ کے وہ کاہے سے ہوتا ہے جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفہ پر غالب ہو تو بچہ اپنے ننھیال کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا نطفہ عورت کے نطفہ پر غالب ہو تو بچہ ددھیال پر پڑتا ہے۔“

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ ، قَالَ : أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ ، فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " .

انس بن مالک روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب! اب یہ «نطفة» ہے، اے رب! اب یہ «علقة» ہو گیا ہے، اے رب! اب یہ «مضغة» ہو گیا ہے۔ پھر جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا مونث، بدبخت ہے یا نیک بخت، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ فِي الرَّحِمِ مَلَكًا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ نُطْفَةٌ يَا رَبِّ عَلَقَةٌ يَا رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهَا ، قَالَ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ يَا رَبِّ أُنْثَى يَا رَبِّ شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ ، فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم کے لیے ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے وہ فرشتہ عرض کرتا ہے، اے رب! یہ «نطفة» ہے، اے رب یہ «مضغة» ہے۔ اے رب! یہ «علقة» ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ پوچھتا ہے اے رب! یہ مرد ہے یا اے رب! یہ عورت ہے، اے رب! یہ بد ہے یا نیک؟ اس کی روزی کیا ہے؟ اور مدت زندگی کتنی ہے؟ چنانچہ اسی کے مطابق ماں کے پیٹ ہی میں سب کچھ فرشتہ رکھ لیتا ہے۔“

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاق إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُ وعَائِشَةُ عِنْدَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ : بَلْ أَنْتِ ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ ، نَعَم ، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِذَا رَأَتْ ذَاكِ .

انس بن مالک روایت:

ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (اور وہ دادی تھیں اسحاق کی جو راوی ہے اس حدیث کا انس رضی اللہ عنہ سے) اور وہاں عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! عورت اگر سونے میں ایسا دیکھے جیسے مرد دیکھتا ہے، (یعنی منی کو) یہ سن کر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ام سلیم! تو نے رسوا کر دیا عورتوں کو (اس وجہ سے احتلام اسی عورت کو ہو گا جو بہت پرشہوت ہو اور منی بھی اس کی نکلے گی) پھر تیرے ہاتھ میں مٹی لگے (اور یہ انہوں نے نیک بات کہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تیرے ہاتھ میں مٹی لگے“ اور ام سلیم رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے ام سلیم! عورت غسل کرے اس صورت میں جب ایسا دیکھے۔“

حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ : أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنَ الْمَرْأَةِ ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ ، فَلْتَغْتَسِلْ " ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَتْ : وَهَلْ يَكُونُ هَذَا ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ ؟ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ ، وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ ، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا ، أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ " .

انس بن مالک روایت:

ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر عورت خواب میں دیکھے وہ جو مرد دیکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت ایسا دیکھے تو غسل کرے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے شرم آئی۔ میں نے کہا: ایسا کیا ہوتا ہے؟ (یعنی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ہوتا ہے ورنہ بچہ عورت کے مشابہ کیوں کر ہوتا ہے۔ مرد کا نطفہ گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پتلا زرد پھر جو اوپر جاتا ہے یا بڑھ جاتا ہے بچہ اسی کے مشابہ ہو جاتا ہے۔“

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنَ الْمَرْأَةِ ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ " .

انس بن مالک روایت:

ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر عورت خواب میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس میں وہی چیز نکلے جو مرد سے نکلتی ہے (یعنی منی نکلے) تو غسل کرے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں