فطرت
کل احادیث 15
فطرتِ انسانی اور مشرکین کی اولاد کے متعلق اہم احادیث
اس خوبصورت مجموعہ احادیث میں ہمیں انسانی فطرت اور مشرکین کی اولاد کے انجام کے بارے میں سچی اسلامی تعلیمات ملتی ہیں۔ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ دنیا میں آنے والا ہر معصوم بچہ دینِ فطرت یعنی اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے، مگر بعد میں اس کے والدین اپنے ماحول اور تربیت کے اثر سے اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کا بچہ بالکل صحیح سلامت پیدا ہوتا ہے مگر بعد میں انسان خود اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ مزید برآں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ان اولادوں کے بارے میں پوچھا گیا جو بچپن میں ہی وفات پا جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے مستقبل کے اعمال سے خوب واقف ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔ یہ احادیث مبارکہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ اللہ نے ہر انسان کو پاکیزہ فطرت پر پیدا کیا ہے اور حقیقی علم صرف اسی کے پاس ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً ، وَلَمْ يَذْكُرْ جَمْعَاءَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اقْرَءُوا : فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ سورة الروم آية 30 " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ : مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَهُوَ عَلَى الْمِلَّةِ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَ عَنْهُ لِسَانُهُ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ : لَيْسَ مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعَبِّرَ عَنْهُ لِسَانُهُ .
ترجمہ وہی ہے جو گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ہر ایک بچہ اسلام کی ملت پر یا اس ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ زبان سے باتیں کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَأَبَوَاهُ بَعْدُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ ، وَيُمَجِّسَانِهِ ، فَإِنْ كَانَا مُسْلِمَيْنِ ، فَمُسْلِمٌ كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ فِي حِضْنَيْهِ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا " .
ترجمہ وہی ہے اتنا زیادہ ہے کہ اگر اس کے ماں باپ مسلمان ہوئے تو بچہ مسلمان رہتا ہے اور ہر ایک بچے کو جب اس کی ماں جنتی ہے تو شیطان اس کی کوکھوں میں ٹھونسا دیتا ہے مگر مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان ٹھونسا نہ دے سکا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ . ح وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ ، وَابْنِ أَبِي ذِئْبٍ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ ، وَمَعْقِلٍ ، سُئِلَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ صَغِيرًا ؟ فَقَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ ؟ قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ " .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " بِمَعْنَاهُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ .
´اس سند سے بھی` ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، (لیکن) اس میں «يولد على الملة» کی بجائے «الفطرة» ”فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے“ کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان میں کوئی کان کٹا پیدا ہوتا ہے؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو۔
