ایمان کا مطلب
کل احادیث 146
ایمان کا مطلب اور مومن کی علامات: احادیث کی روشنی میں
ان مبارک احادیث میں ایمان کا مطلب اور ایک سچے مومن کے اوصاف کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔ پہلی حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبد القیس کو ایمان باللہ کا حکم دیتے ہوئے اس کی وضاحت توحید و رسالت کی گواہی، نماز قائم کرنے، زکوۃ دینے، رمضان کے روزے رکھنے اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنے سے فرمائی۔ دوسری حدیث میں بیان ہوا کہ ایمان کی ساٹھ سے زائد شاخیں ہیں، اور حیاء بھی ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے۔ بقیہ احادیث میں مومن کے قلبی اور سماجی رویوں کا ذکر ہے؛ کوئی شخص اس وقت تک سچا ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے، اور جب تک اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اپنے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ نہ ہو جائے۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق، یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ ایمان محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عمل، حیاء اور بے پناہ محبت کا نام ہے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ جميعا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الأَعْمَشُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا ، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا ، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلُوا ، قَالَ : فَجَاءَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ ، قَالَ : وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ ، قَالَ : وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَسْرَةٍ ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ ، قَالَ : فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ ، قَالَ : فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَفَضِلَتْ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ شک ہے اعمش کو جو راوی ہے اس حدیث کا) جب غزوہ تبوک کا وقت آیا (تبوک شام میں ایک مقام کا نام ہے) تو لوگوں کو سخت بھوک لگی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کاش آپ ہم کو اجازت دیتے تو ہم اپنے اونٹوں کو جن پر پانی لاتے ہیں کاٹ ڈالتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا کاٹو۔“ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر ایسا کیجئیے گا تو سواریاں کم ہو جائیں گی لیکن سب لوگوں کو بلا بھیجئیے اور کہیے اپنا اپنا بچا ہوا توشہ لےکر آئیں پھر اللہ سے دعا کیجئیے کہ توشہ میں برکت دے شاید اس میں اللہ کوئی راستہ نکال دے (یعنی برکت اور بہتری عطا فرمائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا“ پھر ایک دسترخوان منگوایا۔ اس کو بچھا دیا اور سب کا بچا ہوا توشہ منگوایا۔ کوئی مٹھی بھر جوار لایا، کوئی مٹھی بھر کھجور لایا، کوئی روٹی کا ٹکڑا یہاں تک کہ سب مل کر تھوڑا سا دسترخوان پر اکھٹا ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کے لئے دعا کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے برتنوں میں توشہ بھرو۔“ تو تمام نے اپنے اپنے برتن بھر لئے یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا جس کو نہ بھرا ہو۔ پھر سب نے کھانا شروع کیا اور سیر ہو گئے۔ اس پر بھی کچھ بچ رہا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں۔ جو شخص ان دونوں باتوں پر یقین کر کے اللہ سے ملے، وہ جنت سے محروم نہ ہوگا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ .
اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا داری کی نصیحت کر رہا ہے باقی حدیث وہی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، وَسُفْيَانَ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ والی روایت مروان کے قصے میں سابقہ حدیث کی طرح ہے اور اسی طرح یہ شعبہ اور سفیان کی روایت کی طرح ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولَانِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يُلْحِقُ مَعَهُنَّ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ ، يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں زنا کرتا، زنا کرنے والا مگر زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا اور نہ چور چوری کرتے وقت مومن ہوتا ہے اور نہ شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن ہوتا ہے۔“ ابن شہاب نے کہا: مجھ سے عبدالملک بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اس حدیث کو روایت کرتے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، پھر کہتے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں اتنا ملا دیتے تھے: ”نہ ڈاکہ ڈالنے والا ایسا ڈاکہ جو بڑا ہو (یعنی حقیر چیز نہ ہو) جس کی طرف لوگوں کی نظر اٹھے، ڈاکہ ڈالتے وقت مومن ہوتا ہے۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَذَكَرَ : النُّهْبَةَ ، وَلَمْ يَقُلْ : ذَاتَ شَرَفٍ .
اس میں «النُّهْبَةَ» کا ذکر ہے «ذات شرف» مذکور نہیں ہے۔
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،
اس سند سے بھی تمام راویوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.كُلُّ هَؤُلَاءِ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ الْعَلَاءَ وَصَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ وَزَادَ وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ.
یہ حدیث بھی زہری کی روایت کی طرح ہے فرق صرف اتنا ہے کہ علاء اور صفوان کی حدیث میں «يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ» کے الفاظ نہیں اور ہمام کی حدیث میں «يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ» کے الفاظ ہیں۔ اس میں اضافہ ہے کہ «وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ» ..... الخ پس تم بچتے رہو، تم بچتے رہو۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مذکورہ حدیث اس سند سے بیان کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدٍ .
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مذکور ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الإِسْلَامِ ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا ، وَمَنْ أَسَاءَ ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإِسْلَامِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ! کیا ہم سے پوچھ ہو گی ان کاموں کی جو ہم نے جاہلیت کے زمانے میں کیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے جو اچھی طرح اسلام لایا (یعنی سچا مسلمان ہوا دل سے) اس سے تو پوچھ نہ ہو گی جاہلیت کے کاموں کی اور جو برا ہے (یعنی صرف ظاہر میں مسلمان ہوا اور دل میں اس کے کفر رہا) اس سے پوچھ ہو گی جاہلیت اور اسلام دونوں وقت کے کاموں کی۔“
