ابو عبیدہؓ کے فضائل
کل احادیث 3
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے فضائل اور امین امت کا لقب
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اسلام کی تاریخ کے ان عظیم ترین صحابہ میں شامل ہیں جنہیں زبانِ نبوت سے امانت داری کی بے مثال سند ملی۔ ان احادیث مبارکہ کے مطابق جب نجران کے عیسائی سرداروں نے مباہلہ کرنے کے بجائے جزیہ دینے پر آمادگی ظاہر کی اور اپنے ساتھ کسی سچے امانت دار شخص کو بھیجنے کی درخواست کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا شخص بھیجوں گا جو پورا پورا امین ہوگا۔ تمام صحابہ کرام اس عظیم فضیلت کے منتظر تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور میری اس امت کے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں امین (امانتدار) ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔“
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَا تَفْعَلْ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ ، وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا ، قَالَا : إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا ، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا ، فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ " ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
حذیفہ روایت:
نجران کے دو سردار عاقب اور سید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی۔ پھر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئیے، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہونا ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ لَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ : " لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ " ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ النَّاسُ ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ .
ابوحذیفہ روایت:
اہل نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجوں گا جو ہر حیثیت سے امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم منتظر تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
