نزول قرآن
کل احادیث 20
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِهِ ، أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ ، وَتَابَعَ يُونُسَ عَلَى قَوْلِهِ ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، وَذَكَرَ قَوْلَ خَدِيجَةَ : أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ .
اس روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کانپ رہا تھا۔ اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ سب سے پہلے جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی وہ سچا خواب تھا اور پہلی روایت کی طرح اس میں یہ ہے کہ اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ورقہ سے کہا کہ اے چچا کے بیٹے! سنئیے اپنے بھتیجے کی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے ایسے معجزات عطا کئے گئے کہ (انہیں دیکھ کر لوگ) ان پر ایمان لائے (بعد کے زمانے میں ان کا کوئی اثر نہیں رہا) اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی (قرآن) ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی ہے۔ (اس کا اثر قیامت تک باقی رہے گا) اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے تابع فرمان لوگ دوسرے پیغمبروں کے تابع فرمانوں سے زیادہ ہوں گے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ، قَالَتْ : " كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ ، الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ ، فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ ، فَكَانَ يَخْلُ وَبِغَارِ حِرَاءٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ ، وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ أُولَاتِ الْعَدَدِ ، قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، قَالَ : فَأَخَذَنِي ، فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ ، فَقُلْتُ : مَا أَنَا بِقَارِئٍ ، فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ، حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَقَالَ : اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ { 1 } خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ { 2 } اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ { 3 } الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ { 4 } عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ { 5 } سورة العلق آية 1-5 فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ ، فَقَالَ : زَمِّلُونِي ، زَمِّلُونِي ، فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ، ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ : أَيْ خَدِيجَةُ : مَا لِي ، وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ " ، قَالَ : لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ، قَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : كَلَّا أَبْشِرْ ، فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ ، حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ ابْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا ، وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : أَيْ عَمِّ ، اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ ، قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَاذَا تَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَآهُ ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ : هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ ، يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا ، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ ، قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ ، قَالَ وَرَقَةُ : نَعَمْ ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا .
عائشہ روایت:
پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہونے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح نمودار ہوتا۔ پھر آپ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرا کے غار میں اکیلے تشریف رکھتے۔ وہاں عبادت کیا کرتے کئی راتوں تک اور گھر میں نہ آتے۔ اتنا توشہ ساتھ لے جاتے، پھر ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آتے وہ اور توشہ اتنا ہی تیار کر دیتیں یہاں تک کہ اچانک آپ پر وحی اتری (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی توقع نہ تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حرا کے غار میں تھے، کہ فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھا ہوا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس فرشتے نے مجھے پکڑ کر دبوچا اتنا کہ وہ تھک گیا یا میں تھک گیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ۔ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھ کو پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» یعنی ”پڑھ اپنے مالک کا نام لے کر جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹکی سے۔ پڑھ اور تیرا مالک بڑی عزت والا ہے، جس نے سکھلایا قلم سے، سکھلایا آدمی کو وہ جو نہیں جانتا تھا“۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے اور گردن کے بیچ کا گوشت پھڑک رہا تھا۔ (ڈر اور خوف سے چونکہ یہ وحی کا پہلا مرتبہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عادت نہ تھی، اس واسطے ہیبت چھا گئی) یہاں تک کہ پہنچے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ڈھانپ دو، ڈھانپ دو“ (کپڑوں سے) انہوں نے ڈھانپ دیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا اس وقت اپنی بی بی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا“ اور سب حال بیان کیا کہا: ”مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔“سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں آپ خوش ہو جائیے۔ قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا یا کبھی رنجیدہ نہ کرے گا، آپ اللہ کی قسم ناتے کو جوڑتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں (یعنی عیال اور اطفال اور یتیم اور مسکین کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا بار اٹھاتے ہیں) اور نادار کیلئے کمائی کرتے ہیں، اور خاطر داری کرتے ہیں مہمان کی اور سچی آفتوں میں (جیسے کوئی قرض دار ہو گیا یا مفلس ہو گیا یا اور کوئی تباہی آئی) مدد کرتے ہیں لوگوں کی۔“پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے (کیونکہ ورقہ، نوفل کے بیٹے تھے اور نوفل، اسد کے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خویلد کی بیٹی تھیں اور خویلد، اسد کے بیٹے تھے تو ورقہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے باپ بھائی بھائی تھے) اور جاہلیت کے زمانے میں وہ نصرانی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے تو انجیل کو عربی میں لکھتے تھے جتنا اللہ کو منظور تھا۔ اور بہت بوڑھے تھے۔ ان کی بینائی جاتی رہی تھی (بڑھاپے کی وجہ سے) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے چچا! (وہ چچا کے بیٹے تھے مگر بزرگی کیلئے ان کو چچا کہا اور ایک روایت میں چچا کے بیٹے ہیں) اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ورقہ نے کہا: اے بھتیجے میرے! تم کیا دیکھتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیفیت دیکھی تھی۔ سب بیان کی۔ ورقہ نے کہا یہ تو وہ ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔ کاش میں اس زمانہ میں جوان ہوتا کاش میں زندہ رہتا اس وقت تک جب تمہاری قوم تم کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے۔“ ورقہ نے کہا: ہاں جب کوئی شخص دنیا میں وہ لے کر آیا جس کو تم لائے ہو (یعنی شریعت اور دین) تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے اور جو میں اس دن کو پاؤں گا تو اچھی طرح تمہاری مدد کروں گا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَوَاللَّهِ لَا يُحْزِنُكَ اللَّهُ أَبَدًا وَقَالَ : قَالَتْ خَدِيجَةُ : أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ .
عائشہ روایت:
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے اس میں اتنا فرق ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رنجیدہ نہ کرے گا۔ (اور اگلی روایت میں یوں تھا رسوا نہ کرے گا) اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ورقہ سے کہا: اے چچا کے بیٹے سنئیے! اپنے بھتیجے کی بات (اور اگلی روایت میں یوں تھا اے چچا! سنئیے اپنے بھتیجے کی بات)۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَابَعَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تَوَفَّاهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ " .
انس بن مالک روایت:
اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پے در پے وحی اتارتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبی زمانے میں تو بہت وحی اتری پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً ، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَجُثِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ ، قَالَ : وقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَالرُّجْزُ الأَوْثَانُ ، قَالَ : ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے وحی کے متعلق جب موقوف ہو گئی تھی پس میں جا رہا تھا کہ (باقی الفاظ جو اوپر گزرے) ہیں میں سہم گیا اور جھکا زمین کی طرف۔ باقی جو اوپر گزرا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي قَوْلِهِ : "لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ ، وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ سورة القيامة آية 1 ، لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ { 16 } إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ { 17 } فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ { 18 } سورة القيامة آية 16-18 فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 ، قَالَ : إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ " .
ابن عباس روایت:
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے` اللہ تعالیٰ کے فرمان «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں۔“ بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہو جاتا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» میں ہے، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔“راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا کہ تیرے دل میں جما دینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ كَامِلَةً بَرَاءَةٌ ، وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 " .
براء بن عازب روایت:
سب سے آخری سورۃ جو پوری اتری وہ سورۃ برات (توبہ) تھی اور آخری آیت جو اتری وہ سورۃ نساء کی یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة»۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَقَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 ، قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الأَوْثَانُ ، وَقَالَ : فَجُثِثْتُ مِنْهُ ، كَمَا قَالَ عُقَيْلٌ .
زہری روایت:
زہری سے روایت ہے، اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کی طرح اور کہا نازل کیا اللہ تعالیٰ نے سورۂ مدثر کو ”اے کپڑا اوڑھنے والے اور پلیدی چھوڑ دے تک“ پہلے اس سے کہ فرض کی جائے نماز، اور پلیدی وہ بت ہیں، اور کہا اس نے «فَجُثِثْتُ مِنْهُ» جیسے کہا عقیل نے۔
