حدیث ۱۸۶۸
جامع ترمذی : ۱۸۶۸
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۸۶۸
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال : سَمِعْتُ زَاذَانَ يَقُولُ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْعِيَةِ ، أَخْبِرْنَاهُ بِلُغَتِكُمْ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمَةِ وَهِيَ الْجَرَّةُ ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَهِيَ الْقَرْعَةُ ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ وَهُوَ أَصْلُ النَّخْلِ يُنْقَرُ نَقْرًا أَوْ يُنْسَجُ نَسْجًا ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ وَهِيَ الْمُقَيَّرُ ، وَأَمَرَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ ، وَعَلِيٍّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ، وَسَمُرَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَعَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، وَالْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ، وَمَيْمُونَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى 12 : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
´زاذان کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے ان برتنوں کے متعلق پوچھا جن سے آپ نے منع فرمایا ہے اور کہا: اس کو اپنی زبان میں بیان کیجئے اور ہماری زبان میں اس کی تشریح کیجئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حنتمة» سے منع فرمایا ہے اور وہ مٹکا ہے، آپ نے «دباء» سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کی تونبی ہے۔ آپ نے «نقير» سے منع فرمایا اور وہ کھجور کی جڑ ہے جس کو اندر سے گہرا کر کے یا خراد کر برتن بنا لیتے ہیں، آپ نے «مزفت» سے منع فرمایا اور وہ روغن قیر ملا ہوا (لاکھی) برتن ہے، اور آپ نے حکم دیا کہ نبیذ مشکوں میں بنائی جائے ۱؎۔
