حدیث ۱۸۷۸
جامع ترمذی : ۱۸۷۸
جامع ترمذیحدیث نمبر ۱۸۷۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَال : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى يُحَدِّثُ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ ، وَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ ، وَقَالَ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَالْبَرَاءِ ، وَعَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
´ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ` حذیفہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا، اور کہا: میں اس سے منع کر چکا تھا، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ۱؎، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا: ”یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے“۔
