حدیث ۲۱۲۰

جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۱۲۰

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ التَّابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : وَلَا الطَّعَامَ ، قَالَ : " ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا " . ثُمَّ قَالَ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ، وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ ، وَأَهْلِ الْحِجَازِ لَيْسَ بِذَلِكَ فِيمَا تَفَرَّدَ بِهِ ، لِأَنَّهُ رَوَى عَنْهُمْ مَنَاكِيرَ وَرِوَايَتُهُ ، عَنْ أَهْلِ الشَّامِ أَصَحُّ ، هَكَذَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَال : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ حَدِيثًا مِنْ بَقِيَّةَ ، وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ الثِّقَاتِ ، وَسَمِعْت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ زَكَرِيَّا بْنَ عَدِيٍّ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ : خُذُوا عَنْ بَقِيَّةَ مَا حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ ، وَلَا تَأْخُذُوا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ مَا حَدَّثَ عَنِ الثِّقَاتِ ، وَلَا عَنْ غَيْرِ الثِّقَاتِ .

´ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا (ولدالزنا) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا (نہ کہ زانی کی طرف)، اور زانی رجم کا مستحق ہے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسری طرف نسبت کی یا اپنے موالی کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا اس پر قیامت کے دن تک جاری رہنے والی لعنت ہو، کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے بہتر ہے“۔ (یعنی اس کی زیادہ حفاظت ہونی چاہیئے) پھر آپ نے فرمایا: ” «عارية» (منگنی) لی ہوئی چیز واپس لوٹائی جائے گی، «منحة» ۱؎ واپس کی جائے گی، قرض ادا کیا جائے گا، اور ضامن ذمہ دار ہے“ ۲؎۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں