جامع ترمذی حدیث ۲۱۵۸ - ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
جامع ترمذی : ۲۱۵۸
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۱۵۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَشْرَفَ يَوْمَ الدَّارِ ، فَقَالَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ : زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوِ ارْتِدَادٍ بَعْدَ إِسْلَامٍ ، أَوْ قَتْلِ نَفْسٍ بِغَيْرِ حَقٍّ ، فَقُتِلَ بِهِ " ، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا قَتَلْتُ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ، فَبِمَ تَقْتُلُونَنِي ؟ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فَرَفَعَهُ ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ فَأَوْقَفُوهُ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا .
ابوامامہ بن سہل بن حنیف روایت:
جب باغیوں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت پر آ کر کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں، کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین صورتوں کے سوا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں: شادی کے بعد زنا کرنا، یا اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جانا، یا کسی کو ناحق قتل کرنا جس کے بدلے میں قاتل کو قتل کیا جائے، اللہ کی قسم! میں نے نہ جاہلیت میں زنا کیا ہے نہ اسلام میں، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کے بعد میں مرتد ہوا ہوں اور نہ ہی اللہ کے حرام کردہ کسی نفس کا قاتل ہوں، پھر (آخر) تم لوگ کس وجہ سے مجھے قتل کر رہے ہو؟۔
