حدیث ۲۵۰۲
جامع ترمذی : ۲۵۰۲
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۵۰۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : حَكَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، فَقَالَ : مَا يَسُرُّنِي أَنِّي حَكَيْتُ رَجُلًا ، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَفِيَّةَ امْرَأَةٌ ، وَقَالَتْ بِيَدِهَا : هَكَذَا كَأَنَّهَا تَعْنِي قَصِيرَةً ، فَقَالَ : " لَقَدْ مَزَجْتِ بِكَلِمَةٍ لَوْ مَزَجْتِ بِهَا مَاءَ الْبَحْرِ لَمُزِجَ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اور مجھے اتنا اور اتنا مال ملے“۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیشک صفیہ ایک عورت ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، گویا یہ مراد لے رہی تھیں کہ صفیہ پستہ قد ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک تم نے اپنی باتوں میں ایسی بات ملائی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بدل جائے“ ۱؎۔
