حدیث ۲۷۴۷
جامع ترمذی : ۲۷۴۷
جامع ترمذیحدیث نمبر ۲۷۴۷
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُولَنَّ : هَاهْ هَاهْ فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ أَحْفَظُ لِحَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَأَثْبَتُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْت أَبَا بَكْرٍ الْعَطَّارَ الْبَصْرِيَّ يَذْكُرُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ : أَحَادِيثُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَوَى بَعْضَهَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَرَوَى بَعْضُهَا عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَاخْتَلَطَتْ عَلَيَّ ، فَجَعَلْتُهَا عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ «الحمد للہ» کہے تو ہر مسلمان کے لیے جو اسے سنے «یرحمک اللہ» کہنا ضروری ہے۔ اب رہی جمائی کی بات تو جس کسی کو جمائی آئے، اسے چاہیئے کہ وہ اپنی طاقت بھر اسے روکے اور ہاہ ہاہ نہ کہے، کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے، اور شیطان اس سے ہنستا ہے“۔
