حدیث ۳۰۱۹

جامع ترمذیحدیث نمبر ۳۰۱۹

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا ، قَالَ : وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ ، قَالَ : فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .

´ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا“، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں