حدیث ۳۱۰۹
جامع ترمذی : ۳۱۰۹
جامع ترمذیحدیث نمبر ۳۱۰۹
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ ؟ قَالَ : " كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ " ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ : أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ ، وَيَقُولُ شُعْبَةُ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَهُشَيْمٌ : وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ ، وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
´ابورزین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ نے فرمایا: ” «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ۱؎“، احمد بن منیع کہتے ہیں: (ہمارے استاد) یزید نے بتایا: «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔
