صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۷ - خرید و فروخت میں اختیار
بیع خیار کی حدیث: خرید و فروخت میں جدا ہونے تک اختیار
صحیح بخاری : ۲۱۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۷
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَكُونُ الْبَيْعُ خِيَارًا " ، قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ، إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ ، فَارَقَ صَاحِبَهُ .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خرید و فروخت کرنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیار ہوتا ہے، یا خود بیع میں اختیار کی شرط ہو۔ (تو شرط کے مطابق اختیار ہوتا ہے) نافع نے کہا کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوئی ایسی چیز خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو (خریدنے کے بعد) اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرید و فروخت کے ایک اہم اصول کو آسان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، یا خود بیع میں اختیار کی شرط رکھی گئی ہو۔ اس کا مطلب متن کی حد تک یہ ہے کہ سودا ہوتے ہی ہر صورت فوراً بند نہیں ہو جاتا، بلکہ جدا ہونے تک معاملے میں اختیار باقی رہتا ہے۔ نافع رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی پسندیدہ چیز خریدتے تو خریدنے کے بعد اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع بیع خیار، خرید و فروخت کا اختیار، سودا اور معاملہ ہے۔ اس سے لین دین میں صاف اصول اور فریقین کے حق کی بات سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خریدنے اور بیچنے والے کو جدا ہونے تک اختیار بتایا گیا ہے۔
- بیع میں اختیار کی شرط ہو تو شرط کے مطابق معاملہ ہوگا۔
- لین دین میں فریقین کے حق کا خیال رکھا گیا ہے۔
- معاملہ پسند آنے کے بعد اسے واضح طور پر مکمل کیا جا سکتا ہے۔
