صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۸ - بیچنے اور خریدنے کا اختیار
خرید و فروخت میں اختیار: بیعان بالخیار کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۸
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا " ، وَزَادَ أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : قَالَ هَمَّامٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي التَّيَّاحِ ، فَقَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي الْخَلِيلِ لَمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ .
حکیم بن حزام روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بیچنے اور خریدنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں (معاملہ کو باقی رکھنے یا توڑ دینے کا) اختیار ہوتا ہے۔ احمد نے یہ زیادتی کی کہ ہم سے بہز نے بیان کیا کہ ہمام نے بیان کیا کہ میں نے اس کا ذکر ابوالتیاح کے سامنے کیا تو انہوں نے بتلایا کہ جب عبداللہ بن حارث نے یہ حدیث بیان کی تھی، تو میں بھی اس وقت ابوالخلیل کے ساتھ موجود تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیچنے اور خریدنے والوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں۔ ترجمے میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ یہ اختیار معاملہ باقی رکھنے یا توڑ دینے سے متعلق ہے۔ اس روایت میں اصل زور لین دین کے حق پر ہے۔ خریدنے والا اور بیچنے والا دونوں معاملے کے فریق ہیں، اس لیے جدا ہونے سے پہلے انہیں سوچنے اور فیصلہ کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔ بیعان بالخیار، خرید و فروخت میں اختیار، سودا اور فریقین کا حق اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ حدیث کے آخری حصے میں راوی کے ذکر سے سند کی بات آتی ہے، مگر عملی پیغام یہی ہے کہ بیع کے وقت جلد بازی، دھوکہ یا دباؤ کے بجائے واضح اختیار کو سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔
- یہ اختیار معاملہ باقی رکھنے یا ختم کرنے سے متعلق ہے۔
- خرید و فروخت میں دونوں فریقوں کے حق کو اہمیت دی گئی ہے۔
- سودے کو سمجھ کر مکمل کرنا بہتر ہے۔
