صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۹ - پسند کر لو کا معاملہ
خرید و فروخت میں پسند کا اختیار: اختر کہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۱۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : اخْتَرْ " ، وَرُبَّمَا قَالَ : أَوْ يَكُونُ بَيْعَ خِيَارٍ .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے والے اور بیچنے والے کو (بیع توڑ دینے کا) اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔ یا دونوں میں سے کوئی ایک اپنے دوسرے فریق سے یہ نہ کہہ دے کہ پسند کر لو۔ کبھی یہ بھی کہا کہ ”یا اختیار کی شرط کے ساتھ بیع ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرید و فروخت کے دوران اختیار کا ایک اور انداز بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خریدار اور بیچنے والے کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں۔ یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے کہہ دے کہ پسند کر لو۔ کبھی یہ الفاظ بھی آئے کہ اختیار کی شرط کے ساتھ بیع ہو۔ اس حدیث کا اصل موضوع خرید و فروخت میں اختیار، پسند کا حق اور بیع خیار ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ اسلامی لین دین میں فریقین کو معاملہ سمجھنے اور قبول کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ سودا، بیع، خریدار کا حق، بیچنے والے کا حق اور اختیار کی شرط جیسے الفاظ اس روایت کے قریب ہیں۔ یہاں اصل بات صاف ہے: معاملہ واضح رضا اور اختیار کے ساتھ ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خریدار اور بیچنے والے کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔
- ایک فریق دوسرے کو پسند کرنے کا کہہ سکتا ہے۔
- اختیار کی شرط کے ساتھ بیع کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- لین دین میں رضامندی اور وضاحت اہم ہے۔
