صحیح بخاری حدیث ۲۳۲۶ - بنو نضیر کے باغات کا واقعہ

بنو نضیر کے کھجوروں کے باغات کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۲۶

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ " ، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ : وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے باغ جلا دیئے اور کاٹ دیئے۔ ان ہی کے باغات کا نام بویرہ تھا۔ اور حسان رضی اللہ عنہ کا یہ شعر اسی کے متعلق ہے۔ بنی لوی (قریش) کے سرداروں پر (غلبہ کو) بویرہ کی آگ نے آسان بنا دیا جو ہر طرف پھیلتی ہی جا رہی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے باغات جلائے اور کاٹے۔ متن میں ان باغات کا نام بویرہ بتایا گیا ہے، اور حسان رضی اللہ عنہ کا شعر بھی اسی واقعے سے متعلق نقل ہوا ہے۔ یہ روایت ایک خاص واقعہ بیان کرتی ہے۔ اس میں عمومی طور پر ہر باغ، ہر درخت یا ہر حالات کے بارے میں الگ حکم بیان نہیں کیا گیا۔ اس لیے بنو نضیر کی حدیث کو اسی واقعے تک محدود رکھ کر سمجھنا چاہیے۔ یہاں اصل سرچ کی ورڈ بنو نضیر کے باغات کی حدیث ہے، کیونکہ لوگ اس روایت کو اسی نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اس خاص موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے، اور اس واقعے کی جگہ بویرہ کے نام سے ذکر ہوئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ حدیث بنو نضیر کے ایک خاص واقعے کو بیان کرتی ہے۔
  • بویرہ نامی باغات کا ذکر متن میں آیا ہے۔
  • حسان رضی اللہ عنہ کا شعر اسی واقعے سے متعلق نقل ہوا ہے۔
  • خاص واقعے کو عمومی حکم بناتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں