صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۴ - شراب حرام ہونے کی حدیث

شراب حرام ہونے کی حدیث: حکم آیا تو فوراً عمل ہوا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۶۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ ، وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي ، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ : اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا ، فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 الْآيَةَ " .

انس روایت:

میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ (پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا (یہ سنتے ہی) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیئے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا‏» ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو پہلے کھا چکے ہیں (آخر آیت تک)۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع شراب کی حرمت اور فوری اطاعت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہے تھے، جو اس وقت کھجور سے بنتی تھی۔ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ شراب حرام ہو گئی ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا کہ اسے باہر لے جا کر بہا دو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے شراب بہا دی، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔ شراب حرام ہونے کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کا حکم واضح ہو جائے تو مسلمان تاخیر نہیں کرتا۔ روایت میں پہلے فوت ہونے والوں کے بارے میں سوال کا بھی ذکر ہے، پھر آیت نازل ہوئی کہ ایمان اور نیک عمل والوں پر پہلے کھا پی لینے میں گناہ نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حکم واضح ہو جائے تو فوراً عمل کرنا چاہیے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نے شراب چھوڑنے میں دیر نہیں کی۔
  • حرمت سے پہلے کے عمل پر آیت کے ذریعے وضاحت آئی۔
  • دین میں اطاعت صرف بات سے نہیں، عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں