صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۹ - دودھ دینے والا ہدیہ بہترین صدقہ
دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ: منیحہ کی فضیلت
صحیح بخاری : ۲۶۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۲۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نِعْمَ الْمَنِيحَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً ، وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِإِنَاءٍ " . حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، وَإِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : نِعْمَ الصَّدَقَةُ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا ہی عمدہ ہے ہدیہ اس دودھ دینے والی اونٹنی کا جس نے ابھی حال ہی میں بچہ جنا ہو اور دودھ دینے والی بکری کا جو صبح و شام اپنے دودھ سے برتن بھر دیتی ہے۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف اور اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا کہ (دودھ دینے والی اونٹنی کا) صدقہ کیا ہی عمدہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ دینے والی اونٹنی اور دودھ دینے والی بکری کے ہدیہ کو بہت عمدہ بتایا۔ ایسی بکری یا اونٹنی صبح و شام دودھ دیتی ہے اور لینے والے کے گھر میں عملی فائدہ پہنچاتی ہے۔ حدیث میں منیحہ، دودھ دینے والا جانور، اور صدقہ کے پہلو کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ ہدیہ صرف ایک چیز دینے کا نام نہیں، بلکہ کسی کے گھر کی روزمرہ ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ دودھ دینے والی بکری کا ہدیہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ضرورت مند کو بار بار فائدہ ملتا ہے۔ اس روایت میں سخاوت کو عملی اور فائدہ مند انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایسا ہدیہ بہتر ہے جس سے لینے والے کو مسلسل فائدہ ملے۔
- دودھ دینے والا جانور دینا نفع بخش صدقہ ہو سکتا ہے۔
- سخاوت میں دوسروں کی روزمرہ ضرورت کا خیال رکھنا چاہیے۔
