صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۶ - عمریٰ جائز ہے
عمریٰ جائز ہے: عطیہ اور ہبہ سے متعلق حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۲۶
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " . وَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عمریٰ جائز ہے۔“ اور عطاء نے کہا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جائز ہے۔ اسی طرح عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی معنی کی روایت بیان کی۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر عمریٰ کے موضوع پر واضح بات کہتی ہے۔ عمریٰ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کا عطیہ معتبر ہے۔ اس میں لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے شرح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمریٰ کو جائز فرمایا۔ ہبہ، عطیہ اور عمریٰ کے مسائل میں یہ روایت بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمریٰ کو حدیث میں جائز قرار دیا گیا ہے۔
- عطیہ دیتے وقت اس کی نوعیت صاف ہونی چاہیے۔
- مختصر حدیث بھی کسی معاملے میں صاف رہنمائی دے سکتی ہے۔
