صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۷ - ضرورت پر چیز ادھار لینا
عاریت کی حدیث: ضرورت کے وقت چیز ادھار لینا
صحیح بخاری : ۲۶۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۲۷
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، " فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ ، فَرَكِبَ ، فَلَمَّا رَجَعَ ، قَالَ : مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .
انس روایت:
مدینے پر (دشمن کے حملے کا) خوف تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے ایک گھوڑا جس کا نام مندوب تھا مستعار لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے (صحابہ بھی ساتھ تھے) پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا، ہمیں تو کوئی خطرہ کی چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا سمندر کی طرح (تیز دوڑتا) پایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ مدینہ میں ایک خوف کی کیفیت ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے مندوب نامی گھوڑا عاریتاً لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور واپس آ کر فرمایا کہ ہمیں کوئی خطرہ نظر نہیں آیا، اور یہ گھوڑا سمندر کی طرح تیز پایا۔ اس روایت کا موضوع عاریت یعنی استعمال کے لیے چیز ادھار لینا ہے۔ یہاں عاریت کا معاملہ ضرورت کے وقت سامنے آتا ہے۔ ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آ کر گھوڑے کی اچھی بات بھی بیان فرمائی۔ اس سے عاریت کی حدیث میں امانت، ضرورت، اور چیز کے مالک کی قدر کا پہلو سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے وقت کسی سے چیز عاریتاً لی جا سکتی ہے۔
- ادھار لی ہوئی چیز امانت ہوتی ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے۔
- کسی کی چیز استعمال کرنے کے بعد اس کی خوبی کا ذکر شکر گزاری کا انداز ہو سکتا ہے۔
