صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۰ - رضاعت کا دعویٰ اور جدائی
رضاعت کا دعویٰ: نکاح میں احتیاط کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ دَعْهَا عَنْكَ أَوْ نَحْوَهُ " .
عقبہ بن حارث روایت:
میں نے ایک عورت سے شادی کی تھی۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اس لیے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں بتا دیا گیا (کہ ایک ہی عورت تم دونوں کی دودھ کی ماں ہے) تو پھر اب اور کیا صورت ہو سکتی ہے اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دے۔“ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت سے شادی کی، پھر ایک عورت آئی اور کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہیں بتا دیا گیا تو اب اور کیا صورت ہو سکتی ہے، اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دو، یا اسی کے قریب الفاظ فرمائے۔ اس حدیث کا اصل موضوع رضاعت کا دعویٰ، نکاح میں احتیاط، اور شرعی رشتوں کا اثر ہے۔ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ دودھ کا رشتہ ثابت ہونے کا امکان نکاح کے معاملے میں معمولی بات نہیں سمجھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعت کا دعویٰ نکاح کے مسئلے میں سنجیدہ معاملہ ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست رہنمائی لی گئی۔
- دودھ کے رشتے کے شبہ کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- نکاح میں حلال و حرام کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔
