صحیح بخاری حدیث ۳۴۵ - جنابت میں پانی نہ ملے تو بحث
جنابت میں تیمم: صحابہ کی علمی گفتگو
صحیح بخاری : ۳۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۵
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ غُنْدَرٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُود " إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ لَا يُصَلِّي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمُ الْبَرْدَ ، قَالَ : هَكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى " ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنِعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ .
ابوموسیٰ روایت:
اگر (غسل کی حاجت ہو اور) پانی نہ ملے تو کیا نماز نہ پڑھی جائے۔ عبداللہ نے فرمایا، ہاں! اگر مجھے ایک مہینہ تک بھی پانی نہ ملے تو میں نماز نہ پڑھوں گا۔ اگر اس میں لوگوں کو اجازت دے دی جائے تو سردی معلوم کر کے بھی لوگ تیمم سے نماز پڑھ لیں گے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے عمار رضی اللہ عنہ کے قول کا کیا جواب ہو گا۔ بولے کہ مجھے تو نہیں معلوم ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن ہو گئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک علمی گفتگو نقل ہوئی ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو نماز کا کیا حکم ہو گا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سخت احتیاط کا جواب دیا، اور وجہ یہ بیان کی کہ لوگ سردی کو بہانہ بنا کر تیمم کی طرف جلدی کر سکتے ہیں۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کے واقعے کا حوالہ دیا، جس میں تیمم کا ذکر موجود تھا۔ یہ روایت ہمیں دکھاتی ہے کہ جنابت میں تیمم، پانی نہ ملنے پر نماز، اور حدیث سے دلیل لینے جیسے مسائل صحابہ کے ہاں سنجیدگی سے زیر بحث آتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام دینی مسائل پر دلیل کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔
- جنابت میں پانی نہ ملنے کا مسئلہ اہم فقہی بحث رہا۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے غلط استعمال کا اندیشہ تھا۔
- ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔
