صحیح بخاری حدیث ۳۴۶ - آیتِ تیمم اور جنابت کا مسئلہ
آیتِ تیمم، جنابت اور پانی نہ ملنے کا سوال
صحیح بخاری : ۳۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۶
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : أَرَأَيْتَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ مَاءً كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ الْمَاءَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ ، حِينَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يَكْفِيكَ ، قَالَ : أَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِذَلِكَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَدَعْنَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ ، فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ ، فَقَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّمَ ، فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ : فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ لِهَذَا ، قَالَ : نَعَمْ " .
شقیق بن سلمہ روایت:
میں عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) اور ابوموسیٰ اشعری کی خدمت میں تھا، ابوموسیٰ نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کو غسل کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے۔ عبداللہ نے فرمایا کہ اسے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ جب تک اسے پانی نہ مل جائے۔ ابوموسیٰ نے کہا کہ پھر عمار کی اس روایت کا کیا ہو گا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں صرف (ہاتھ اور منہ کا تیمم) کافی تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ عمار کی اس بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے۔پھر ابوموسیٰ نے کہا کہ اچھا عمار کی بات کو چھوڑو لیکن اس آیت کا کیا جواب دو گے (جس میں جنابت میں تیمم کرنے کی واضح اجازت موجود ہے) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف یہ کہا کہ اگر ہم اس کی بھی لوگوں کو اجازت دے دیں تو ان کا حال یہ ہو جائے گا کہ اگر کسی کو پانی ٹھنڈا معلوم ہوا تو اسے چھوڑ دیا کرے گا۔ اور تیمم کر لیا کرے گا۔ (اعمش کہتے ہیں کہ) میں نے شقیق سے کہا کہ گویا عبداللہ نے اس وجہ سے یہ صورت ناپسند کی تھی۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث جنابت میں تیمم کے مسئلے کو ایک اور انداز سے بیان کرتی ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر آدمی جنبی ہو جائے اور پانی نہ ملے تو کیا کرے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پانی ملنے تک نماز نہ پڑھے۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی، پھر آیت کا حوالہ دیا جس میں پانی نہ ملنے پر پاک مٹی سے تیمم کا ذکر ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ جواب میں یہ اندیشہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ٹھنڈا پانی چھوڑ کر تیمم کرنے لگیں گے۔ اس روایت میں اختلافی گفتگو نقل ہوئی ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی گفتگو تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلے میں قرآن کی آیت اور حدیث دونوں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔
- جنابت میں پانی نہ ملنے کا سوال صحابہ کے زمانے میں بھی پوچھا گیا۔
- احتیاط کی وجہ کبھی کبھی لوگوں کے غلط استعمال کے اندیشے سے بھی ہو سکتی ہے۔
- علمی گفتگو میں سوال، جواب اور دلیل سب موجود ہوتے ہیں۔
