صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۰ - عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت
عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثرید کی مثال کے ساتھ
صحیح بخاری : ۳۷۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
انس بن مالک روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت اور تمام کھانوں پر۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۰ کا خلاصہ
یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو بہت مختصر مگر واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔ اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک ایسی مثال دی جو اس زمانے کے لوگوں کے لیے بہت آسانی سے سمجھ آنے والی تھی۔ ثرید ایک پسندیدہ کھانا تھا، اس لیے اس مثال کے ذریعے عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقام کو واضح کیا گیا۔ اس روایت کا اصل پیغام عائشہ رضی اللہ عنہا کا احترام، ان کی فضیلت، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ کو اسی حد میں سمجھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت نبی صلى الله عليه وسلم نے صاف طور پر بیان فرمائی۔
- تعلیم میں آسان مثال دینا بات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- امہات المؤمنین کا ذکر ادب اور احترام سے کرنا چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کو ان کے اصل مفہوم کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
