صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۱ - عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تسلی

عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیادت اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تسلی بخش الفاظ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۱

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَكَتْ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقْدَمِينَ عَلَى فَرَطِ صِدْقٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ " .

قاسم بن محمد روایت:

عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما عیادت کے لیے آئے اور عرض کیا: ام المؤمنین! آپ تو سچے جانے والے کے پاس جا رہی ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کے پاس (عالم برزخ میں ان سے ملاقات مراد تھی)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کے وقت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عیادت کا واقعہ ہے۔ انہوں نے ام المؤمنین سے کہا کہ آپ سچے جانے والے کے پاس جا رہی ہیں، یعنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس۔ متن میں عالم برزخ کی ملاقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ روایت ہمیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقام، صحابہ کے باہمی ادب، اور بیمار شخص کو اچھے الفاظ سے تسلی دینے کا انداز دکھاتی ہے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک مختصر ملاقات ہے جس میں محبت، احترام اور حسن ظن نمایاں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور صحابہ کا ادب اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیمار کی عیادت میں نرم اور امید دلانے والے الفاظ کہنے چاہئیں۔
  • صحابہ کرام امہات المؤمنین کا بہت ادب کرتے تھے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
  • اہل ایمان کے لیے اچھا گمان رکھنا دل کو سکون دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں