صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۲ - عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام اور اتباع کی آزمائش
عائشہ رضی اللہ عنہا کا احترام اور حق کی اتباع کی آزمائش
صحیح بخاری : ۳۷۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ , سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا " .
ابووائل روایت:
جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمار رضی اللہ عنہ کا خطاب نقل ہوا ہے۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تو عمار رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زوجہ ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ اللہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ تم علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہو یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ اس روایت میں دو باتیں ساتھ ساتھ آتی ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا کا بلند مقام اور ایک خاص موقع پر اتباع کی آزمائش۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلافی حالات میں بھی زبان میں ادب باقی رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اختلاف کے وقت بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام مانا گیا۔
- کبھی حالات انسان کے لیے اتباع اور فیصلے کی آزمائش بن جاتے ہیں۔
- صحابہ کے باہمی معاملات کو ادب اور احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔
- حق کی پیروی میں جذبات کے بجائے دینی سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔
