صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۳ - ہار گم ہونے پر تیمم کی آیت
تیمم کی آیت کا پس منظر: عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہونا
صحیح بخاری : ۳۷۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا , فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ : " جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً ".
عائشہ روایت:
´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں جانے کے لیے) آپ نے (اپنی بہن) اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لے لیا تھا، اتفاق سے وہ راستے میں کہیں گم ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا، اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو ان حضرات نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے صورت حال کے متعلق عرض کیا۔اس کے بعد تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! تم پر جب بھی کوئی مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کی سبیل تمہارے لیے پیدا کر دی، اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی اس میں برکت پیدا فرمائی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہار کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار عاریتاً لیا تھا، پھر راستے میں وہ گم ہو گیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے صحابہ کو بھیجا۔ اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا، پانی موجود نہیں تھا، تو صحابہ نے بغیر وضو نماز پڑھ لی۔ جب انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے یہ بات عرض کی تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے سے نکلنے کا راستہ بنایا اور مسلمانوں کے لیے برکت پیدا فرمائی۔ یہ حدیث تیمم، آسانی، اور امت کے لیے خیر کا صاف بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے راستہ پیدا فرماتا ہے۔
- تیمم کی اجازت مسلمانوں کے لیے آسانی کا سبب بنی۔
- صحابہ اپنی پیش آنے والی صورت حال نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے رکھتے تھے۔
- کسی ایک واقعے سے کبھی پوری امت کے لیے فائدہ ظاہر ہو جاتا ہے۔
