صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۴ - مرض الوفات میں ازواج کی باری
ازواج مطہرات کی باری اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کا سکون
صحیح بخاری : ۳۷۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۴
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ جَعَلَ يَدُورُ فِي نِسَائِهِ ، وَيَقُولُ : " أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا " , حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي سَكَنَ " .
´مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں بھی ازواج مطہرات کی باری کی پابندی فرماتے رہے البتہ یہ دریافت فرماتے رہے کہ کل مجھے کس کے یہاں ٹھہرنا ہے؟ کیونکہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے خواہاں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے یہاں قیام کا دن آیا تو آپ کو سکون ہوا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے مرض الوفات کا ایک نرم اور باادب پہلو بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم اپنی ازواج مطہرات کی باری کی پابندی کرتے رہے، مگر بار بار پوچھتے کہ کل میں کہاں ہوں گا، کل میں کہاں ہوں گا۔ روایت میں بتایا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے خواہاں تھے۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں قیام کا دن آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم کو سکون ہوا۔ اس حدیث میں گھریلو عدل، ازواج کے حقوق، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت کا ذکر ہے۔ متن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کے وقت بھی آپ صلى الله عليه وسلم نے ترتیب اور حق کا خیال رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بیماری میں بھی ازواج کی باری کا خیال رکھا۔
- گھریلو حقوق میں عدل اور ترتیب کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ صلى الله عليه وسلم کو سکون ملا۔
- محبت کے ساتھ حقوق کی رعایت بھی ضروری ہے۔
