صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۷ - جنگ بعاث اور انصار کا اسلام
جنگ بعاث اور انصار کے قبول اسلام کا پس منظر
صحیح بخاری : ۳۷۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۷
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ يَوْمُ بُعَاثَ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ ، وَقُتِلَتْ : سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا , فَقَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ " .
عائشہ روایت:
بعاث کی جنگ کو (جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ہوئی تھی) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاد میں پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو یہ قبائل آپس کی پھوٹ کا شکار تھے اور ان کے سردار کچھ قتل کئے جا چکے تھے، کچھ زخمی تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کو آپ سے پہلے اس لیے مقدم کیا تھا تاکہ وہ آپ کے تشریف لاتے ہی مسلمان ہو جائیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے یوم بعاث کا ذکر کیا، جو اسلام سے پہلے اوس اور خزرج کے درمیان جنگ تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اپنے رسول صلى الله عليه وسلم کے لیے پہلے ہی مقدم کر رکھا تھا۔ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان قبائل میں پھوٹ تھی، ان کے بعض سردار قتل ہو چکے تھے اور بعض زخمی تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ کے مطابق اللہ نے یہ واقعہ اس لیے پہلے کر دیا تھا تاکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے تشریف لاتے ہی وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی تدبیر، انصار کا اسلام، اور مدینہ کے حالات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ بعض واقعات کو خیر کے لیے سبب بنا دیتا ہے۔
- یوم بعاث کے بعد مدینہ کے قبائل کی حالت بدل چکی تھی۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی آمد انصار کے لیے اسلام کا ذریعہ بنی۔
- تاریخی واقعے کو حدیث کے بیان کردہ دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
