صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۸ - انصار کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی محبت
انصار کی فضیلت: لوگ غنیمت لے جائیں، تم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو لے جاؤ
صحیح بخاری : ۳۷۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۷۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : وَأَعْطَى قُرَيْشًا , وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ وَغَنَائِمُنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَا الْأَنْصَارَ ، قَالَ : فَقَالَ : " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ " وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ ، فَقَالُوا : هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ ، قَالَ : " أَوَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَى بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ " .
انس بن مالک روایت:
فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو (غزوہ حنین کی) غنیمت کا سارا مال دے دیا تو بعض نوجوان انصار یوں نے کہا (اللہ کی قسم!) یہ تو عجیب بات ہے ابھی ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا حاصل کیا ہوا مال غنیمت صرف انہیں دیا جا رہا ہے، اس کی خبر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے انصار کو بلایا۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو خبر مجھے ملی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے انہوں نے عرض کر دیا کہ آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس سے خوش اور راضی نہیں ہو کہ جب سب لوگ غنیمت کا مال لے کر اپنے گھروں کو واپس ہوں اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیے اپنے گھروں کو جاؤ گے؟ انصار جس نالے یا گھاٹی میں چلیں گے تو میں بھی اسی نالے یا گھاٹی میں چلوں گا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم نے قریش کو غنیمت کا مال دیا تو بعض نوجوان انصار نے دل کی بات کہی۔ خبر نبی صلى الله عليه وسلم تک پہنچی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار کو بلایا اور پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے۔ انصار جھوٹ نہیں بولتے تھے، اس لیے انہوں نے سچ بتا دیا۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کیا تم اس پر خوش نہیں کہ لوگ غنیمت لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اپنے گھروں کو لے جاؤ۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انصار جس وادی یا گھاٹی میں چلیں گے، میں بھی اسی میں چلوں گا۔ یہ حدیث انصار کی فضیلت، سچائی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت کا خوبصورت بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار نے سچ بات کہی، اگرچہ وہ ان کے دل کی کیفیت تھی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے انصار کو مال سے بڑھ کر اپنی رفاقت کی طرف متوجہ کیا۔
- انصار کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت بہت واضح ہے۔
- کبھی دل کی الجھن کو حکمت سے دور کیا جاتا ہے۔
